ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ایل او سی کے قریب زلزلہ مزاحم گھرغیر محفوظ

ایل او سی کے قریب زلزلہ مزاحم گھرغیر محفوظ

Sat, 08 Oct 2016 15:43:48    S.O. News Service

مظفر آباد ،8اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)متنازع علاقے کشمیر میں لائن آف کنٹرولکے دونوں جانب آباد کشمیری پاکستان اورہندوستان کی افواج کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے باعث اس خوف کا شکار ہیں کہ زلزلہ مزاحم تعمیرات کے باعث معمولی فائرنگ یا گولہ بار ی سے انہیں بہت زیادہ جانی و مالی نقصان اُٹھانا پڑ سکتا ہے۔پاکستان کے شمالی علاقوں اور اس کے زیر انتظام کشمیر میں آٹھ اکتوبر 2005کو آنے والے 7.6شدت کے زلزلے کے باعث عمارتیں گرنے اور دیگر حادثات میں 75ہزار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔بین الاقوامی مالی امداد سے متاثرہ علاقوں کی بحالی و تعمیر نو کے لیے شروع کیے گئے پروگرام کے تحت پاکستانی کشمیر کے متاثرہ اضلاع میں تین لاکھ سے زائد متاثرہ خاندانوں کو جستی چادر کی چھتوں پر مشتمل گھروں کی تعمیر کے لیے پچاس ارب روپے مہیا کیے گئے۔یہ مکانات زلزلہ مزاحم تو ہیں لیکن زلزلے سے قبل پاکستانی کشمیر میں بنائے گئے مٹی کے گھروں کی نسبت کمزور ہیں اور اس بنا پر مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایل او سی کے پار سے ممکنہ فائرنگ کی صورت میں اُن کے گھر غیر محفوظ ہیں۔گزشتہ ماہ ہندوستان کے زیر قبضہ کشمیر میں کنٹرول لائن کے قریب اُوڑی میں ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر عسکریت پسندوں کے مبینہ حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پید اہو نے والی کشیدگی کے باعث جستی چادر کی چھتوں کی وجہ سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ حد بندی لائن کے پار سے داغے گئے گولوں اور فائر کی جانی والی گولیوں سے ان گھروں میں اُن کے لیے بچا? نا ممکن ہے۔کیونکہ مٹی کی چھت والے گھروں سے گولوں کے ٹکڑے اور گولیا ں مٹی سے با آسانی نہیں گزر سکتی تھیں۔سر حدی قصبہ چکوٹھی کے ایک تاجر محمود احمد کا کہنا ہے کہ حکومت سرحدی علاقوں کے رہنے والوں کو بم پروف مورچوں کی تعمیر کے لیے مالی وسائل مہیا کرے۔


Share: